Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

Urdu News Update

 

Newsflash
 

اردو رسائل و جرائد

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

 

Hina Digest

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Reader's Digest

 

 

 

کورونا وائرس: ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس سے متاثر ہونے کا کتنا خطرہ ہے؟

کورونا وائرس کی زد میں کوئی بھی آ سکتا ہے لیکن ان لوگوں کے لیے خطرہ زیادہ ہے جن کو پہلے سے ہی صحت کا مسئلہ ہے یا جو عمر دراز ہیں۔

 

دی لانسیٹ جرنل میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ عمر رسیدہ ہیں یا جن کو ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریاں ہیں ان میں کورونا وائرس سے جان جانے کا زیادہ خطرہ ہے۔

یہ تحقیق چین کے ووہان کے دو ہسپتالوں کے 191 مریضوں پر کی گئی ہے۔ اس میں محققین نے ان لوگوں کا مطالعہ کیا جو کورونا کی وجہ سے یا تو انتقال کر گئے یا پھر صحتیابی کے بعد انھیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

ان میں 135 مریض جنینتان ہسپتال اور 56 ووہان پلمنری ہسپتال کے تھے۔ ان 191 مریضوں میں سے 137 کو ہسپتال سے رخصت دی گئی جبکہ 54 ہلاک ہوگئے۔ کل نمونوں میں سے 58 مریضوں کو ہائی بلڈ پریشر تھا 36 کو ذیابیطس اور 15 کو دل سے متعلق امراض تھے۔

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

ذیابیطس: کیا ادویات کی بڑھتی قیمتیوں کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے؟

 

مریضوں کی عمر 18 سے 87 سال تک ہے۔ زیادہ تر مریض مرد تھے۔

I   

Shuaa Digest Home Delivery

اس مطالعے میں سنگین بیماری اور موت سے وابستہ خطرات کی تحقیقات کی گئیں۔

مرنے والے مریضوں کی ایک اہم وجہ عمر رسیدہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل ہوتے وقت سیپسس کی علامات تھیں۔ اور انھیں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریاں تھیں۔

تاہم محققین کا خیال ہے کہ نمونہ کا سائز محدود ہونے کے سب ان کے نتائج کی تشریح محدود ہو سکتی ہے۔

انڈیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق 2019 میں انڈیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 7.7 کروڑ تھی۔ بہت سے لوگوں کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں بھی ذیابیطس کا مرض بتایا جارہا ہے۔ تاہم ایسے کتنے مریض ہیں اس کے بارے میں اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

 

گلوبل دمہ رپورٹ 2018 کے مطابق انڈیا میں 1.31 کروڑ افراد کو دمہ ہے جس میں 6 فیصد بچے اور دو فیصد بالغ شامل ہیں۔

ایسی صورتحال میں اگر آپ کو طویل عرصے سے کوئی بیماری ہے اور آپ کورونا وائرس سے خوفزدہ ہیں تو ماہرین آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔

کسے زیادہ خطرہ لاحق ہے

اگر آپ کو پہلے سے ہی کوئی بیماری ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے مقابلے میں جلد کورونا وائرس کی زد میں آ جائیں، لیکن انفیکشن کے بعد صورتحال دوسرے مریضوں کی نسبت زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد اور وہ افراد جو پہلے ہی سانس کی بیماری (دمہ) کی زد میں ہیں، جن کا کمزور مدافعتی نظام ہے یا جو ذیابیطس اور دل کی بیماری سے دوچار ہیں ان کے کورونا وائرس کی زد میں آنے سے شدید طور پر بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔ .

بہت سے لوگ کچھ دن کے آرام کے بعد کورونا وائرس کے انفیکشن سے ٹھیک ہوگئے ہیں۔ بہت سارے لوگوں کے لیے یہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے اور غیر معمولی حالات میں یہ زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس کی علامات دوسری بیماریوں کی طرح ہیں۔ جیسے سردی، نزلہ، کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دشواری

 

Post dated  March 28, 2020

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

با کما ل لو گو ں کی لا جو ا ب'' یو نیفا ر م''

جلد کی حفاظت

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768