Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

Urdu News Update

 

Newsflash
 

اردو رسائل و جرائد

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

Small house for sale in Rawalpindi

Hina Digest

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Reader's Digest

 

 

 

چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کے لیے کیسے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے؟

چین سنہ 2022 میں ایک ڈیجیٹل یوآن کرنسی لانا چاہتا ہے جس کا نام ای آر ایم بی رکھا گیا ہے۔

سنہ 2022 میں چین جانے والے لوگوں کو اس نئی ڈیجیٹل کرنسی میں خرید و فروخت یا لین دین کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

یہ ایسی کرنسی ہوگی جو نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ اسے نوٹوں کی طرح ہاتھ میں پکڑ سکیں گے اور یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے۔

ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے چین ڈیجیٹل یوآن پر پائلٹ پروجیکٹ لانچ کرنے میں مصروف ہے۔

گذشتہ ماہ چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا نے چار بڑے شہروں شینزن، چینگدو، سوزو اور شیان گان میں اس پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس پروجیکٹ کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا کچھ حصہ ڈیجیٹل یوآن میں ادا کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سٹار بکس اور میکڈونلڈ جیسی 20 نجی کمپنیوں بھی اس تجربے میں حصہ لے رہی ہیں۔

پاکستان میں عمران خان کی حکومت ؛ صرف انٹرٹینمنٹ

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

ذیابیطس: کیا ادویات کی بڑھتی قیمتیوں کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے؟

کیا ریاست کو کتابوں پر پابندی لگانی چاہیے؟

 

اگر یہ کامیاب رہا تو چینی حکومت اسے سنہ 2022 کے سرمائی اولمپکس کے وقت پورے ملک میں جاری کر دے گی۔

 

بلوچستان  اسمبلی : سپیکر اور وزیر اعلیٰ جام کمال   میں  اختلافات

 

تاہم ایسا مرحلہ وار کیا جائے گا اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دراصل اس منصوبے پر سنہ 2014 میں کام شروع ہوا تھا۔ چین اس پر عمل درآمد کرنے میں خاصی تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اس کی تین اہم وجوہات ہوسکتی ہیں: امریکہ کے ساتھ تیز تر ہوتی ہوئی تجارتی جنگ، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے سلسلے میں چین پر مسلسل الزام عائد کرنا اور رواں سال فیس بک کا ڈیجیٹل کرنسی لبرا لانے کی تیاری۔

بڑی تبدیلی

ڈیجیٹل یوآن کے متعارف کرانے کو ایک ایسی چیز کہا جا رہا ہے جو عالمی توازن کو بدل سکتی ہے۔ یہ چین کے حوصلہ مندانہ منصوبوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور اکیسویں صدی میں ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے کامیاب استعمال سے 10 سے 15 سال میں ایک نیا سیاسی اور معاشی نظام جنم لے سکتا ہے۔

دہلی میں واقع فورڈ سکول آف مینجمنٹ میں چینی امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں انڈیا اور امریکہ بالترتیب 'لکشمی' اور'ڈیجیٹل ڈالر' کے نام سے اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن اب تک وہ حقیقت سے بہت دور ہیں۔'

فی الحال چینی ڈریگن نے انڈین لکشمی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق کرنسی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ڈالر پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔

ممبئی میں مقیم چوری والا سیکیورٹیز کے آلوک چوری والا کہتے ہیں 'امریکی فیڈرل ریزرو کے کھربوں ڈالر کے قرض کے پیش نظر ڈالر اپنی اصل قیمت سے کہیں زیادہ مہنگا ہے۔ ایک نئی کرنسی یقیناً خوش آئند ہے لیکن اس کی عالمی قبولیت میں ایک طویل وقت لگے گا۔'

پروین وشیش سنگاپور میں قائم ماڈیولر ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو منیجر ہیں اور پوری دنیا کی کرنسیوں میں کاروبار کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں 'ڈیجیٹل یوآن یقینی طور پر امریکی ڈالر سے فاصلہ بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ فی الحال امریکی ڈالر دنیا میں مروجہ کرنسی ہے اور سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں گولڈ سٹینڈرڈ کے خاتمے کے بعد سے ایسا ہی رہا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں 'امریکہ چین تجارتی جنگ اور اب کورونا کی وبا کے سبب تنازعے میں اضافہ ڈالر کے لیے خطرہ ہے۔ بہر حال کسی دوسرے اور فوری متبادل کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس تبدیلی میں وقت لگے گا۔ دنیا کو یقینی طور پر چینی اقدامات پر نظر رکھنی ہوگی۔

فی الحال امریکی ڈالر کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ سنہ 2019 میں بین الاقوامی مالیاتی لین دین کا تقریباً 90 فیصد کاروبار امریکی ڈالر میں ہوا۔

اس کے مقابلے میں چینی یوآن کا عالمی ادائیگیوں اور ذخائر میں صرف 2 فیصد حصہ تھا۔

دوسری طرف دنیا کے تمام ذخائر کا 60 فیصد سے زیادہ امریکی ڈالر میں ہے

چین کے خزانے میں تین کھرب ڈالر کی مالیت کے اثاثے امریکی کرنسی میں بھی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل احمد کا خیال ہے کہ چین اسے بہت سے طریقوں سے استعمال کرسکتا ہے جس سے اس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'چین اس کرنسی کا استعمال جغرافیائی اور سیاسی فوائد کے لیے دوسرے ممالک کو ترغیبی پیکجوں کی فراہمی کے طور پر کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ وسط ایشیا سے آرکٹک خطے تک بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) منصوبے میں شامل ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔'

فی الحال امریکی ڈالر کے اثرات اور اس کی اہمیت کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ دنیا کے سیاسی اور معاشی امور پر تسلط برقرار رکھے گا۔

مثال کے طور پر ایران، روس، شمالی کوریا اور دوسرے ممالک کے خلاف پابندیاں بین الاقوامی تجارت اور بینکوں کے امریکی ڈالر پر انحصار کی وجہ سے ممکن ہیں۔

 

 

Post dated  January 10, 2020

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

بلوچستان  اسمبلی : مخلوط حکومت کے اتحادی

موسمیاتی تبدیلی: کیا گھریلو باغیچے یعنی کچن گارڈن ہی انسانی بقا کے ضامن ہیں؟

 

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768