Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

Urdu News Update

 

Newsflash
 

اردو رسائل و جرائد

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

Small house for sale in Rawalpindi

Hina Digest

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Reader's Digest

 

 

 

سندھ: تعلیمی نصاب میں خواتین کا کردار گھر کے کام کاج تک محدود

پاکستان کے صوبہ سندھ کے پرائمری اور سکینڈری نصاب تعلیم میں خواتین کے بارے میں متعصب مواد پایا جاتا ہے جس میں مردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ خواتین کا کردار گھر کے کام کاج تک محدود رکھا گیا ہے۔

 

یہ نتیجہ سندھ کی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کی جانب سے سندھی نصابی کتابوں میں صنفی نمائندگی اور شناخت پر تحقیق سے اخذ کیا گیا ہے۔

یہ تحقیق شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کی ڈاکٹر نادیہ آغا، پروفیسر غزل کاظم اور دیدار میرانی نے کی ہے۔

ڈاکٹر نادیہ آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تحقیق دو حصوں میں کی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں پرائمری سطح کے نصاب کا جائزہ لیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں سیکینڈری نصاب کا تجزیہ کیا گیا۔

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

ذیابیطس: کیا ادویات کی بڑھتی قیمتیوں کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے؟

ان کا کہنا تھا: ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس نصاب میں صنفی نمائندگی کیسے کی گئی ہے۔ اس کے لیے نصاب میں موجود تصاویر اور مواد کا تجزیہ کیا اور ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ نصاب پدرانہ نظام کو ( جس میں گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے) سپورٹ کرتا ہے۔

 

بلوچستان اسمبلی: مخلوط حکومت کی اتحادی جماعتیں

 

عورتوں کا کردار گھریلو کام کاج تک محدود

ڈاکٹر نادیہ کے مطابق سندھی نصابی کتابوں میں عورتوں کو یا تو گھر کا کام کاج کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے یا اگر وہ سکول بھی جاتی ہیں تو وہاں بھی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ گھر کے کام کاج کے بارے میں ہی ہوتی ہے۔

اس میں دکھایا گیا ہے کہ سکول سے واپسی پر لڑکا بیٹھ جاتا ہے اور لڑکی اسے پانی لاکر دیتی ہے، اس کی خدمت کر تی ہے۔ ماں نے کھانا بنایا ہوا ہے تو وہ کھانا لے کر جاتی ہے۔ شام میں لڑکا کھیلنے چلا جاتا ہے جبکہ لڑکی گھر میں بیٹھ کر ماں کا ہاتھ بٹاتی۔

تحقیق میں پہلی جماعت کے خاندان کے بارے میں مضمون کو زیر بحث لایا گیا ہے جس میں والد کے کام کاج کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ جبکہ ماں کا کردار گھریلو کام کاج تک محدود ہے کہ وہ ناشتہ بناتی ہے، گھر کی صفائی کرتی، پھر دوپہر کا کھانا بناتی ہے۔

تحقیق میں تبصرہ کیا گیا ہے اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گھر کا کام کاج صرف عورت کی ہی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح تیسری جماعت کے سبق میں دو اچھی لڑکیوں، نوری اور شبنم، کا حوالہ دیا گیا ہے کہ وہ کبھی فارغ نہیں بیٹھتی: سلائی کڑھائی کرتی ہیں، برتن اور کپڑے دھوتی ہیں اور دیگر لڑکیوں کے ہمراہ اپنی کلاس کی بھی صفائی کرتی ہیں۔

تیسری جماعت کے پانی پر سبق میں تین تصاویر دی گئی ہیں جن میں ایک میں مرد استاد اور طالبعلم پانی ذخیرہ کرنے پر بات کر رہے ہیں۔ دیگر دو تصاویر میں کنویں اور جھیلوں میں پانی جمع ہونے کے بارے میں دکھایا گیا ہے۔ جبکہ ان میں خواتین پانی نکالتے یا پھر لے جاتے ہوئے نظر آتی ہیں۔

نصاب کی تشکیل میں عدم توازن

پاکستان میں اس وقت چاروں صوبوں کے علاوہ وفاقی تعلیمی بورڈ، آغا خان تعلیمی بورڈ اور کیمبرج بورڈ کا نصاب رائج ہے۔ بچوں کی اکثریت سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہے۔

ڈاکٹر امبرین کا کہنا ہے کہ نصاب ترتیب دیتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ ترتیب دینے والے کون لوگ ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے کاموں میں صنفی برابری نہیں ہوتی اور انہیں قوی یقین ہے کہ جب نصاب کی تشکیل ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر مرد حضرات ہی ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نادیہ آغا کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جو تبدیلیاں آئی ہیں ان کو نصاب میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ اس تحقیق کے ذریعے پالیسی سازوں کو بتانا چاہتی ہیں کہ وہ نصاب پر نظر ثانی کریں کیونکہ اس سے تبدیلی نہیں آرہی بلکہ اس سے ماحول زیادہ خراب ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر امبرین کا مشورہ ہے کہ نصاب کی تشکیل کرنے والوں میں انسانی حقوق، صنفی برابری، قانون اور مذہب کا علم رکھنے والوں کو شامل کرنا چاہیے۔

 

پاکستان کے نئے مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کون ہیں؟

 

Post dated  November 27, 2019

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

فواد چوہدری: چاند دیکھنے کا تنازع اور حکومتی وزیر کی تجویز

پاکستان : موت کی سزا پانے والے ہر پانچ میں دو بے گناہ

آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو گی؟

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768